ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: بیرونی اضلاع سے بڑی رقومات دے کر بھٹکل سرکاری اسپتال میں داخل ہونے کی بات غلط؛ ڈاکٹر سویتا کامتھ کی وضاحت؛ ایک ساتھ نو مریض ڈسچارج

بھٹکل: بیرونی اضلاع سے بڑی رقومات دے کر بھٹکل سرکاری اسپتال میں داخل ہونے کی بات غلط؛ ڈاکٹر سویتا کامتھ کی وضاحت؛ ایک ساتھ نو مریض ڈسچارج

Tue, 01 Jun 2021 21:08:13    S.O. News Service

بھٹکل 2 جون (ایس او نیوز)  شموگہ اور ساگر  وغیرہ سے چالیس پچاس ہزار روپئے زائد وصول کرکے  بھٹکل  سرکاری اسپتال میں مریضوں کو داخل کرنے کی بات میں کوئی سچائی نہیں ہے،  کچھ لوگوں نے  غلط باتیں پھیلائی ہیں  کہ  ایمبولنس ڈرائیور اپنے کرایہ کے ساتھ  40  اور 50 ہزار روپئے اضافی رقم  لے کر مریضوں کو بھٹکل سرکاری اسپتال میں منتقل کررہے ہیں۔ یہ بات    بھٹکل تعلقہ ہاسپٹل کی ایڈمنسٹریٹیو آفیسر ڈاکٹر سویتا کامت  نے بتائی۔ 

اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ  بعض لوگوں نے جب مجھے یہ باتیں بتائیں تو میں بے حد پریشان ہوگئی کیونکہ ہم انسانیت کی بنیاد پر دوسرے اضلاع کے  مریضوں کو  بھی اپنے اسپتال میں داخلہ دیتے ہیں اور وہ بھی اس لئے کہ ہمارے اسپتال میں  بیڈ خالی ہیں۔ ڈاکٹر سویتا کامتھ نے بتایا کہ  ایمبولنس ڈرائیوروں کی چالبازی کی جو خبریں پھیلائی گئی ہیں دراصل وہ مستند ذرائع کی خبریں نہیں تھی بلکہ وہ صرف افواہیں تھیں، انہوں نے مزید بتایا کہ ایسے کوئی بات ہمیں کسی مریض نے   نہیں بتائی یا کسی مریض نے اس تعلق سے ایسی کوئی شکایت بھی نہیں کی کہ اُن سے بڑی رقومات لے کر   اُنہیں یہاں لایا گیا ہے۔

ڈاکٹر سویتا کامتھ نے بتایا کہ  جب بڑی  رقومات لے کر بھٹکل میں مریضوں کو لانے کی باتیں عام ہوئیں تو   میں نے معاملے کی تہہ تک جانےکے لئے ہمارے اسپتال میں ایڈمٹ  بیرونی اضلاع کے مریضوں سے انفرادی طور پر  بات چیت  کرتےہوئے جانکاری لی کہ وہ یہاں کیسے آئے؟  کس ذریعہ سے پہنچے ؟ا یمبولنس کے لئے کتنی رقم دی؟ وغیرہ ، تو پتہ چلا کہ   عام طورپر جتنی رقم لی جاتی ہے اتنی ہی ادا کی گئی ہے اور مریض اس بات پر متفق تھے کہ بھٹکل میں اچھی سہولیات ہیں،  اچھا علاج ہوتاہے اسی لئے ہم  نے بھٹکل کا رخ کیا ہے ۔ کسی نے بھی ایمبولنس ڈرائیور سمیت کسی اور پر  الزام نہیں لگایا۔

ڈاکٹر سویتا کامتھ نے بتایا کہ میں آج بھی اپنے فیصلے پر قائم ہوں کہ اگر ہمارے اسپتال میں بیڈ خالی ہیں اور باہر کا کوئی مریض علاج کے لئے یہاں آتاہے تو میں اس کو داخلہ دینے پر پابند ہوں، انسانیت کی بنیاد پر یہی ہونا چاہئے۔

ساگرکی  ایک مریضہ 15 دن بعد صحت مند ہوکر ڈسچارج:      سانس لینے میں بے حد تکلیف میں مبتلا  ایک 66 سالہ مریضہ جو 18 مئی کو  پڑوسی ضلع شموگہ کے ساگر سے    بھٹکل سرکاری اسپتال میں داخل ہوئی تھی،   یکم جون کو  صحت یاب ہوکر  اسپتال سے ڈسچارج ہوگئی۔  رجینا فرٹاڈو  نے  ساحل آن لائن کو بتایا کہ  اُسے نہایت نازک حالت میں بھٹکل سرکاری میں  اسپتال لایا گیا تھا، مگر  آج میں اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر  مکمل صحت یاب ہوکر واپس جارہی ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بھٹکل  اسپتال میں  ڈاکٹروں کی مکمل نگرانی   اور نرسوں کی مکمل    دیکھ ریکھ اور صحیح علاج سے  میں آج ڈسچارج ہوئی ہوں۔ ان کے فرزند نے بتایا کہ انہوں نے  ایمبولنس ڈرائیور یا کسی اور کو کوئی  زائد رقم نہیں دی،   اُنہوں نے سرکاری اسپتال میں صرف داخلہ کے وقت پچاس روپئے   دئے تھے، اس کے بعد  مزیدکوئی فیس نہیں دی۔ مجھے او  ر میری والدہ کو بھٹکل میں مفت کھانا بھی فراہم کیا گیا اور ہمارا پورا خیال رکھا گیا۔  

اس موقع پر بھٹکل سرکاری اسپتال سے   مرڈیشور کے تین  سمیت چوتنی،  شرالی، بینگرے  کے جملہ آٹھ  کورونا کے مریض  بھی صحت یاب ہوکر ڈسچارج ہوگئے۔ ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے  چوتنی کے ایک مریض نے بتایا کہ وہ قریب 14 روز قبل سانس لینے میں تکلیف اور کورونا رپورٹ پوزیٹیو آنے پر یہاں ایڈمٹ ہوئے تھے، آج بالکل صحت یاب ہوکر گھر جارہے ہیں۔ انہوں نے کووڈ وارڈ میں   بہترین علاج  کی تعریف کی  اور کہا کہ  بھٹکل سرکاری اسپتال میں   کووڈ مریضوں کے علاج پر خصوصی دھیان  جارہا ہے اور وہ یہاں پر دی جانے والی  سہولیات سے بالکل مطمئن ہیں۔

بھٹکل سرکاری اسپتال میں خدمات  انجام دینے والے سماجی کارکن جناب نثار رکن الدین، جنہیں اُترکنڑا   ڈپٹی کمشنر ملئے مہیلن نے  ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے  ڈسٹرکٹ  ایکسپرٹ کمیٹی  میں شامل کیاہے، نے بتایا کہ  گذشتہ کچھ دنوں سے سرکاری اسپتال سے کافی مریض جنہیں بے حد نازک حالت میں  کووڈ وارڈ میں داخل کیا گیا تھا، بالکل صحت مند ہوکر ڈسچارج ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس طرح آج  منگل کو نو مریض ڈسچارج ہوئے، پیر کو بھی نو مریض ڈسچارج  ہوئے تھے۔ نثار نے بتایا کہ اگر   مریض کو ابتدا میں ہی سرکاری اسپتال میں  ایڈمٹ کرایا جائے تو اُنہیں بچانا آسان ہوتا ہے، لیکن ہمارے لوگ  پہلے دوسرے اسپتالوں میں  ایڈمٹ کراتے ہیں اور بالکل آخری  موقع پر جب اکسیجن لیول  60 اور 50 سے بھی کم  کو پہنچ جاتا ہے، تب لے کر  سرکاری اسپتال میں آتے ہیں، ایسے  موقعوں پر مریض کو بچانا بے حد مشکل ہوجاتا ہے۔ مزید بتایا کہ بھٹکل سرکاری اسپتال  میں  کووڈ مریضوں    کے لئے چوبیسوں گھنٹے ڈاکٹروں کی خدمات حاصل ہیں، کاروار سے بھی خصوصی ڈاکٹروں کی ٹیم کو یہاں تعینات کیا گیا ہے، اس لئے بھٹکل سرکاری اسپتال میں  کووڈ پر قابو پانے کے لئے جو انتظامات  کئے گئے ہیں،اُس سے بھٹکل کے عوام کو فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ (نثار احمد سے  9886181786 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے)


Share: